FLOOD IN PAKISTAN 2010
   
  RIZWAN ALI SIDDIQUI
  NRO, zardari and suprem court
 

  NROپر فیصلہ :امریکی اخبارات میں

آصف زرداری

تمام اہم امریکی اخبارات نے صدر زرادری کے مستقبل کے سوال پر تبصرہ کیا ہے

امریکی اخبارات نے این آر او یا عام معافی کے متنازع قانون کی پاکستان کو سپریم کورٹ کی طرف سے غیر آيئنی قرار دیے جانے کی خبروں کو نمایاں طور پر شائع کیا ہے۔

چار بڑے امریکی اخبارات (جن میں اکثر پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے نام سے مضامین بھی شائع ہوتے رہے ہیں) نے سپریم کورٹ کی طرف سے این آر کو مسترد کیے جانے کی خبروں میں ایک بات واضح طور مشترک لکھی ہے کہ این آر او کے مسترد قررار دیے جانے کے بعد پاکستان کے صدر زرداری، جنہیں امریکہ اپنا قابل اعتماد اتحادی سمجھتا ہے اور جو پہلے ہی اپنے عہدے کو بچانے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اپنے عہدے کے حوالے سے مزید خطرات میں گھر گۓ ہیں اور انکی پہلے سے ہی، بقول ان امریکی اخبارت، ’نامقبول حکومت مزید نا مقبولیت میں ڈوب جائے گي۔‘

اخـبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے لکھا ہے کہ عدالتی فیصلے سے زرداری کے لیے قانونی چیلینجوں کے دروازے کھل جائيں گے۔

امریکی دارالحکومت سے شائع ہونے والے اس با اثر اخبار نے لکھا ہے کہ یہ فیصلہ اس وقت آیا ہے جب امریکہ پاکستان کے ساتھ شراکت داری میں تیس ہزار اضافی فوجیں افغانستان بھیج رہا ہے اور چاہتا ہے کہ پاکستان عسکریت پسندوں کی پناہ گاہوں کا قلع قمع کرے۔ اخبار لکھتا ہے’لیکن زرداری کی پاکستان کی طرف سے امریکہ کے ساتھ اس سطح کے تعاون کا فیصلہ کرنے کی صلاحیت کے بجائے صدر آصف علی زرداری اپنی تمام زور فقط اپنے عہدے بچانے پر لگاتے کرتے رہے ہیں۔ انکی یہ ایک ایسی ٹاسک ہے جو اب عدالتی فیصلے آنے کے بعد مزید مشکل ہوگئي ہے۔‘

اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے این آرو کو سپریم کورٹ کی طرف سے غیر آئینی قرار دیے جانے کی خبر کو نمایاں شائع کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر زرادری جن کو امریکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قابل بھروسہ پارٹنر سمجھتا ہے کی پوزیشن پاکستان کے سیاسی منظر میں کمزور ہوجائے گي اور ہوسکتا ہے سپریم کورٹ کے فیصلے سے ان کے اختیارات مزید کم ہو کر رہ جائيں

اخـبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ لکھتا ہے کہ اگرچہ صدر زراری کے خلاف ایسا فیصلہ متوقع تھا لیکن سترہ ججوں پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنیچ نے آگے بڑھ کر سوئیس حکام سے زراداری کے خلاف مقدمہ کھولنے کو بھی کہا ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک بھی سزایافتہ ہیں اور اب شاید وہ بھی اپنی سزا کے خلاف عدالت میں اپیل کرنے پر مجبور ہوں۔

’نیویارک ٹائمز‘ نے لکھا ہے کہ سپریم کورٹ میں این آر او کے خلاف مقدمے میں دلچسپ سوال چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے یہ بھی اٹھایا کہ آخر این آر اور کے تحت مقدمات میں معافی ملنے کے بعد صدر زرداری کو ساٹھ ملین ڈالر سوئٹزر لینڈ میں پہلے منجمد کیے جانے والے بینک اکاؤنٹس سے منتقل کرنے کی کس نے اجازت دی؟

’واشنگٹن پوسٹ‘ لکھتا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ سوئیس حکام کیا قدم اٹھاتے ہیں لیکن زرادری پر مبینہ طور لاکھوں کے کالے دھن کو ناجائز طور سفید کرنے(یعنی منی لانڈرنگ) کے الزامات ہیں اور سال دو ہزار تین میں منی لانڈرنگ کے ایک مقدمے میں سوئٹزر لینڈ کے ایک مئجسٹریٹ کی عدالت نے انہیں سزا سنائي تھی جسے بعد میں معطل کردیا گيا تھا۔ صدر زرداری ایسے الزمات کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں ایسے مقدمات ان کےخلاف سیاسی بنیاد پر بنائے گئے تھے۔

اخـبار نے سابق بیوروکریٹ روئيداد خان ( جو سپریم کورٹ میں این آر او کے خلاف ایک مقدمے میں مدعی تھے) سے اپنے نمائندے کی بات چیت کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے زرداری جنہوں نے، بقول رو ئیداد خان ’پاکستان کے غریب عوام کا پئسہ لوٹا ہے تباہ ہوجآئيں گے۔‘

اخبارات ’لاس اینجلز ٹائمز‘ اور ’وال سٹریٹ جرنل‘ نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے اور صدر زرداری کے اس سے جڑے ہوئے مستقبل کے بارے میں نمایاں طور پر خبریں شائع کی ہیں

اخبار لکھتا ہے کہ صدر زرداری کے پاکستان کی فوج جو کہ ملک کی آدھی عمر تک اس پرحکومت کرتی رہی ہے (فوجی) قیادت کے ساتھ کمزور تعلقات ہیں تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ کے جنرل ڈیوڈ پیٹریاس جنہوں نے پاکستان کے گزشتہ دورے پرپاکساتنی صحافیوں سے کہا تھا کہ انہیں ایسی کوئي وجہ نظر نہیں آئي کہ جس سے وہ سمجھیں کہ پاکستانی فوج اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔

اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے این آرو کو سپریم کورٹ کی طرف سے غیر آئینی قرار دیے جانے کی خبر کو نمایاں شائع کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر زرادری جن کو امریکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قابل بھروسہ پارٹنر سمجھتا ہے کی پوزیشن پاکستان کے سیاسی منظر میں کمزور ہوجائے گي اور ہوسکتا ہے سپریم کورٹ کے فیصلے سے ان کے اختیارات مزید کم ہو کر رہ جائيں اور وہ بطور صدر اپنے عہدے پر برقرار تو رہیں لیکن محض برائے نام اختیارات کے علامتی دھنی بنکر۔

اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ یہ بھی لکھتا ہے کہ صدر زرداری کو اپنے عہدے سے الگ کرنے کا واحد قانونی طریقہ ان کا پارلمیان کے ذریعے مواخذہ بچتا ہے لیکن اس کے لیے بھی دو تہائی اکثریت درکار ہوگي۔

اخبارات ’لاس اینجلز ٹائمز‘ اور ’وال سٹریٹ جرنل‘ نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے اور صدر زرداری کے اس سے جڑے ہوئے مستقبل کے بارے میں نمایاں طور پر خبریں شائع کی ہیں۔

وال سٹریٹ جرنل نے پاکستان کے ممتاز قانوندان فخر الدین جی ابراہیم سے اپنی بات چیت کا حوالہ بھی دیا ہے جس میں انہوں نےکہا ہے کہ ممکن ہے کہ جو استثنا صدر کو حاصل ہے وہ سپریم کورٹ بدعنوانی کے مقدمات میں رد کرسکے۔


 
   

 

 
This website was created for free with Own-Free-Website.com. Would you also like to have your own website?
Sign up for free