FLOOD IN PAKISTAN 2010
   
  RIZWAN ALI SIDDIQUI
  LIVING STYLE (IN URDU)
 
 
میاں بیوی تنازعہ، دل کے لیئے نقصاندہ
 
جوڑا
نا اتفاقی ہر انسانی تعلق کا حصہ ہے
میاں بیوی کا جھگڑا صرف الفاظ کی سختی تک ہی محدود نہیں بلکہ اس سے شریانیں بھی سخت ہوجاتی ہیں جو کہ دل کے لیئے خطرناک ہے۔

یونیورسٹی آف اتاہ کے سائنسدانوں نے 150 جوڑوں پر تحقیق کی جس سے یہ معلوم ہوا ہے کہ میاں بیوی کے جھگڑوں سے ہونے والے نقصان کا انحصار جنس پر بھی ہوتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ خواتین میں شریانوں کے امراض کا زیادہ تر تعلق اپنے ساتھی کے غصیلے رویہ سے ہے جبکہ مردوں میں اس کی وجہ کچھ اور ہوسکتی ہے۔

تجزیہ کے لیئے چنے گئے جوڑوں کو بحث کے لیئے ایسے موضوعات دیئے گئے جو عمومی طور پر ان کےدرمیان تنازعے کا باعث بنتے ہیں۔ بحث کے دوران ان افراد کا مسلسل معائنہ کیا گیا۔

نتائج سے ثابت ہوا کہ وہ خواتین جو بحث میں زیادہ سخت الفاظ استعمال کرتی ہیں ان کی شریانوں کو نقصان پہنچنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ دوسری جانب وہ مرد حضرات جنہوں نے سخت الفاظ سننے کے بعد اپنے رویہ پر قابو رکھنے کی کوشش کی ان کی شریانیں سخت ہونے کا زیادہ امکان ہے۔

کئی افراد کو ڈاکٹر سے مشورہ لینے کی رائے دی گئی۔

پروفیسر ٹم سمتھ کا کہنا ہے کہ نا اتفاقی ہر انسانی تعلق کا حصہ ہے۔ ’دل کے امراض کی اور بھی کئی وجوہات ہیں مگر ہم لوگوں کو پھر بھی یہی مشورہ دیں گے کہ اپنے ازدواجی تعلقات بہتر بنانے پر توجہ دیں‘۔

   ذہنی دباؤ کم کیجئے، صحتمند رہیئے

دل
ہنسنے سے شریانیں کھلتی ہیں اور غمگین ہونے سے تنگ
یہ تو سائنسدان پہلے ہی جان چکے ہیں کہ ذہنی دباؤ سے دل کا دورہ پڑ سکتا ہے مگر اب تک یہ معلوم نہیں ہوسکا تھا کہ یہ ہوتا کیسے ہے۔ اب ایک نئی تحقیق کے مطابق ماہرین نے یہ بھی معلوم کرلیا ہے کہ ذہنی دباؤ سے دل کے دورے کا کیا تعلق ہے اور یہ عمل کیسے ہوتا ہے۔

اس تحقیق میں دل کے ایسے مریضوں کو شامل کیا گیا جن کو ذہنی دباؤ کے باعث دل کا درد یا پھر دل کا دورہ پڑ چکا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ ایک طویل عرصے تک ذہنی دباؤ کا شکار رہنے سے بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے جس سے خون میں جمنے والے اجزاء پیدا ہونا شروع ہوجاتے ہیں جو کہ شریانوں کو بند کرسکتے ہیں۔

یونیورسٹی کالج آف لندن کی یہ تحقیق ہمیں بتاتی ہے کہ ذہنی دباؤ ہمارے لیئے کتنا خطرناک ہوسکتا ہے۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ ہم سب کو اس پر غور کرنا چاہیے کہ ہمیں کیا چیز سب سے زیادہ ذہنی دباؤ کا شکار کرتی ہے تاکہ ہم اس سے نمٹنے اور اپنے اوپر قابو پانے کے طریقوں پر غور کریں۔

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ پروفیسر انڈریو سٹیپٹو کا کہنا ہے کہ سالہا سال کا جذباتی و ذہنی دباؤ کمزور افراد میں دل کے دورے کا باعث بن سکتا ہے۔ ’اور اس کا تعلق اس بات سے ہے کہ لوگ مختلف حالات میں کیسے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہیں‘۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر لوگ مشکل صورتحال میں اپنے جذبات پر قابو پانا سیکھ جائیں تو یہ ان کی صحت کے لیئے بہت اچھا ہے۔

 

 
   

 

 
This website was created for free with Own-Free-Website.com. Would you also like to have your own website?
Sign up for free